سیاسی مفاہمتی عمل کا دائرہ کار گلگت بلتستان تک وسیع کیا جائے


 

Weekly Bang-e-Sahar Saturday, April 26—-May 2, 2008
Editorial
وفاقی وزیر امور کشمیر و چیئرمین شمالی علاقہ جات قمر زمان کائرہ نے گلگت بلتستان کا دورہ کرنے کے بعد گلگت بلتستان کے عوام سے جو وعدے کئے ہیں وہ ماضی کے حکمرانوں کے کئے گئے وعدوں کی طرح مشروط نظر آتے ہیں۔ گلگت بلتستان کے عوام کا یہ خیال تھا کہ اب جمہوری حکومت آ گئی ہے اور وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے حکومت سنبھالنے کے بعد 100 دن کی جن ترجیحات کا اعلان کیا اس کا دائرہ کار گلگت بلتستان تک بڑھایا جائے گا لیکن وفاقی وزیر کے پہلے دورہ گلگت سے یہاں کے عوام کے تحفظات اور خدشات میں مزید اضافہ ہونے لگا ہے۔ وفاقی وزیر نے 90 دن کے اندر سول اداروں سے فوج کی واپسی اور مالیاتی پیکیج دینے کا وعدہ کیا اسی طرح انہوں نے اور بھی کئی وعدے کئے لیکن گلگت بلتستان کی 61 سالہ محرومیوں اور قومی تشخص کی بحالی کے حوالے سے کوئی بات نہیں کی۔ پاکستان کے دیگر صوبوں کے برابر اقدامات کا ذکر تو ضرور کیا لیکن مسئلہ گلگت بلتستان کو حساس قرار دیکر سیاسی حوالے سے پارلیمنٹ میں بحث کرنے کا عندیہ دے کر بات گول مول کر دی۔خطہ گلگت بلتستان گزشتہ 61 سالوں سے آئینی، معاشی، انسانی اور تمام تر بنیادی حقوق سے محروم ہے اور اس خطے کا مستقبل مسئلہ کشمیر سے جڑا ہوا ہے۔ خطہ گلگت بلتستان کے مستقبل کا فیصلہ پاکستانی وزیروں یا حکمرانوں نے نہیں کرنا بلکہ اس کے مستقبل کا فیصلہ گلگت بلتستان کے عوام اور سیاسی قائدین نے کرنا ہے۔ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق یہ تنازعہ کشمیر کا حصہ ہے۔ ہم نہیں سمجھتے کہ پاکستان کے حکمران اپنے مفادات کو بالائے طاق رکھ کر یہاں کے عوام کی امنگوں کے مطابق کوئی ریلیف دے سکیں گے کیونکہ ریاست کے اپنے تحفظات ہوتے ہیں۔ زیادہ سے زیادہ اپنے دور اقتدار کو محفوظ بنانے کیلئے ماضی کے حکمرانوں کی طرح انیس بیس کے فرق سے کوئی مالیاتی پیکیج دیا جا سکتا ہے لیکن اس خطے کے آئینی، معاشی اور قومی تشخص کا حل موجودہ حکمرانوں کے پاس بھی نہیں ۔ اگر پاکستانی حکمرانوں کا ظرف اتنا وسیع اور سوچ دانشمندانہ ہوتی تو صدر مشرف ہی اپنے اعلانات پر عمل درآمد کروالیتے۔ان تمام حقائق کو مد نظر رکھ کر یہ کہا جا سکتا ہے کہ اگر موجودہ حکومت گلگت بلتستان کی تعمیر و ترقی کیلئے عملی اقدامات کرنا چاہتی ہے تو اسے سابقہ حکومتوں کی پالیسیوں سے ہٹ کر قدم اٹھانا ہو گا کیونکہ گلگت بلتستان ماضی کی طرح سیاسی جمود کا شکار نہیں رہا۔ اس لئے اصل مسائل سے آنکھیں نہیں چرائی جا سکتیں اور اگر یہاں کے عوام کو ثانوی مسائل میں الجھا کر اصل ایشو سے دور رکھا گیا تو حکمرانوں کو سخت صورتحال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ انسانی حقوق کی پاسداری، جمہوری اداروں کے قیام، معاشی بدحالی کو دور کرنے کیلئے واضح منصوبہ بندی کی ضرورت ہے اور ان تمام مسائل پر کنٹرول کرنے کے لئے حق حکمرانی کو گلگت بلتستان منتقل کرنا ضروری ہے۔ اس کیلئے پہلے مرحلے میں ایک آئین ساز اسمبلی کا قیام اور قوم پرست و سیاسی کارکنوں پر دائر مقدمات کو ختم کرنا ہو گا جس طرح موجودہ حکومت نے بلوچستان سمیت ملک کے دیگر صوبوں میں مفاہمتی عمل کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ اس کا دائرہ کار گلگت بلتستان تک بڑھاتے ہوئے گلگت بلتستان کے قوم پرستوں پر بھی دائر مقدمات ختم کئے اور خصوصاً بالاورستان نیشنل فرنٹ کے چیئرمین عبدالحمید خان گزشتہ دس سالوں سے جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیںدائر مقدمات کو ختم کر کے واپس اپنی سرزمین پر آنے کا موقع دیا جائے۔ اسی طرح سینکڑوں قوم پرست رہنمائوں پر گلگت بلتستان کی عدالتوں میں مقدمات چل رہے ہیں ان کو بھی ختم کر کے ایک سیاسی و مفاہمتی عمل کو فروغ دیا جا نا چاہیے کیونکہ گزشتہ 61 سالوں سے یہاں کے عوام کو کوئی آزادی حاصل نہیں ہے۔ تحریر و تقریر پر غیر اعلانیہ پابندی ہے، سچ بولنے اور لکھنے والوں کو دیوار سے لگا دیا گیا ہے۔ اب یہ نئی جمہوری حکومت کا ٹیسٹ کیس ہے کہ وہ ان مذکورہ بالا امور پر کس حد تک سنجیدگی سے غور کرتی ہے یا ماضی کے حکمرانوں کی طرح صرف اعلانات پر ہی اکتفا کرے گی۔پیپلز پارٹی کو گلگت بلتستان کی بڑی پارٹی تصور کیا جاتا ہے اور مشرف دور حکومت میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ن) کے رہنمائوں نے بڑے وعدے کئے ہیں کہ ہم گلگت بلتستان کی 61 سالہ محرومیوں کے خلاف کسی قسم کی مصلحت کا شکار نہیں ہوں گے۔ وقت آ گیا ہے کہ عوام سے کئے گئے وعدوں کو پورا کیا جائے ورنہ پاکستان کے سیاسی نظام اور خود پاکستانی عوام سے نفرت کا آغاز ہو جائے گا جو رواں صدی کا سب سے بڑا سانحہ ہو گا۔

 

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s