گلگت بلتستان کے مستقبل کا فیصلہ مقامی لوگوں کو کرنے کا حق دیا جائے


اخباری اطلاعات کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ن) گلگت  بلتستان کی صوبائی قیادت نے خطے کے آئینی حقوق کیلئے وفاق میں قائم ہونے والی نئی حکومت سے مذاکرات کے لئے 12 رکنی وفد تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے یہ وفد بہت جلد اسلام آباد جا کر حکمران اتحاد کے رہنمائوں اور حکومتی سربراہان سے ملاقات کرے گا۔ ملاقات کے دوران وفد گلگت  بلتستان کی 60 سالہ محرومیاں اور بدلتے ہوئے عالمی حالات کے تناظر میں خطے کے سیاسی مستقبل کے بارے میں حکومت کے سامنے اپنے مطالبات رکھے گا۔ جس میں علاقے کے لوگوں کو حق حکمرانی دینے کا مطالبہ سرفہرست ہے۔
یقینا یہ بات خوش آئند ہے کہ علاقے کی قوم پرست جماعتوں کے علاوہ اب وفاق پرست اور پاکستان نواز جماعتوں نے بھی حق حکمرانی کے مسئلے کو اپنے اولین ایجنڈے میں شامل کر لیا ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ اس مسئلے کے حل کے لئے باقاعدہ جدوجہد کا بھی عندیہ دیا ہے۔ گلگت  بلتستان کے سیاسی ایشو کو ملکی یا عالمی سطح پر اجاگر کرنے یا اس حوالے سے کسی وفد کی پاکستانی حکمرانوں سے ملاقات سے قبل یہاں کی سیاسی جماعتوں کو چاہیے کہ وہ گلگت  بلتستان کے مسئلے سے متعلق اپنا متفقہ لائحہ عمل تیار کریں اور ایک مشترکہ سیاسی ویژن کے ساتھ آگے بڑھنے کی کوشش کریں۔ یہ بات انتہائی افسوسناک ہے کہ وفاق پرست جماعتیں گلگت  بلتستان کے مسئلے پر اپنا کوئی واضح ویژن نہیں رکھتیں۔ کوئی جماعت صوبہ کی بات کرتی ہے تو کوئی پاکستان کے ایوانوں میں نمائندگی کی بات کرتی ہے اور کوئی کشمیر سے ملنے کی بات کرتی ہے۔ یہ تمام جماعتیں جب بھی گلگت  بلتستان کے حقوق کی بات کرتی ہیں تو آئینی حقوق کا ذکر کیا جاتا ہے۔ حالانکہ جس خطے کو آئین ہی نصیب نہ ہو وہاں آئینی حقوق کا ذکر کرنا غیر مناسب ہے۔ گلگت  بلتستان کا اصل مسئلہ شناخت، تشخص اور حق حکمرانی کا ہے۔
ہم وفاق پرست جماعتوں کو مشورہ دیں گے کہ وہ پاکستان کے موجودہ حکمران اتحاد کو اپنے موقف سے آگاہ کرنے کیلئے علاقے کی تمام وفاق پرست جماعتوں کا ایک نمائندہ وفد تشکیل دیں۔ لیکن ہمارا خیال ہے کہ اس وفد کی ملاقاتیں اس بدقسمت خطے کو حق حکمرانی تو نہیں دلا سکتیں لیکن پاکستانیوں کو ہمارے مسئلے سے آگاہی اور محرومیوں کا احساس ضرور دلائیں گی۔
60 سالہ تاریخ گواہ ہے کہ پاکستانی حکمرانوں نے اس خطے کے ساتھ ایک مقبوضہ علاقے کے طور پر سلوک روا رکھا ہے۔ کبھی اسلام اور پاکستانیت کے نعروں سے یہاں کے لوگوں کو بے وقوف بنایا جاتا رہا ہے کبھی پیکیجز سے بہلایا گیا، کبھی فرقہ واریت کو ہوا دی گئی اور مجموعی طور پر یہ تاثر دیا جاتا رہا کہ یہاں کے لوگ اپنے معاملات سنبھالنے کے اہل نہیں ہیں۔ یہ سب وہی حربے ہیں جو ایک قابض قوت اپنی حکمرانی کو طول دینے کے لئے کرتی ہے۔ اکیسویں صدی کو جمہوریت اور انسانی حقوق کی صدی کہا جاتا ہے۔ اس دور میں ایک انتہائی جغرافیائی اہمیت کے حامل خطے کے بیس لاکھ لوگوں کو مزید محکوم نہیں رکھا جا سکتا۔ انسانی حقوق کی تنظیموں اور یورپین پارلیمنٹ سمیت دنیا کی باشعور قوموں نے اس بات کو شدت سے محسوس کیا ہے کہ خطہ گلگت  بلتستان مجموعی طور پر انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی زد میں ہے۔ خطے کو حق حکمرانی سے محروم رکھ کر پاکستان کی بیوروکریسی یہاں کے وسائل کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہی ہے۔ پاکستان کے پاس یہ آخری موقع ہے کہ وہ گلگت  بلتستان کے لوگوں کے حق حکمرانی کو کھلے دل سے تسلیم کرے اور عالمی برادری موجودہ جمہوری حکومت سے یہی توقع رکھتی ہے کہ وہ گلگت  بلتستان کو UNICP کی قراردادوں کے تحت حق حکمرانی دینے کا اعلان کرتے ہوئے اپنی ملٹری اور سول بیوروکریسی کو اس خطے سے واپس بلا لے اور خطے کو یہاں کے باسیوں کے حوالے کرے، اس ضمن میں مزید تاخیر کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔ لہٰذا پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ن) کے وفد کے مطالبات کو سنجیدگی سے لینا ہی پاکستان کے مفاد میں ہے۔
موجودہ صورتحال میں گلگت  بلتستان کے عوام کو پرامن طریقے سے انتقال اقتدار کا ایک ہی طریقہ ہے کہ یہاں ایک خود مختار اور آزاد آئین ساز اسمبلی قائم کر کے دفاع، کرنسی اور خارجہ امور سمیت ہر معاملہ مقامی لوگوں کے حوالے کیا جائے۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s