وفاقی وزیر کا پہلا دورہ گلگت اور عوامی توقعات


پاکستان میں جمہوریت کا سورج پوری آب و تاب سے طلوع ہو چکا ہے قومی جمہوری حکومت کی مشینری آہستہ آہستہ معاملات کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لے رہی ہے۔ ملک بھر کے عوام انقلابی تبدیلیوں کی توقع رکھتے ہیں جبکہ قومی حکومت کے لب و لہجے سے بھی اس بات کو تقویت مل رہی ہے کہ وہ صرف آٹھ سالہ نہیں بلکہ ساٹھ سالہ خرابیوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے گی۔ گلگت  بلتستان براہ راست وفاق کے زیر انتظام علاقہ ہے اور اس مرتبہ پیپلز پارٹی کے ایک سرگرم رہنما کو امور کشمیر و شمالی علاقہ جات کی وزارت سونپی گئی ہے۔ محترم قمر زمان کائرہ کو چارج سنبھالے ابھی ایک ہفتہ ہوا ہے اور وہ اپنی سرگرمی کا آغاز گلگت کے دورے سے کر رہے ہیں۔ ماضی میں وفاقی وزراء کئی کئی ماہ تک اس علاقے کا رخ نہیں کرتے تھے۔ 15 اپریل کو گلگت میں چیئرمین شمالی علاقہ جات کے عہدے کا حلف اٹھانے کے بعد قمر زمان کائرہ اس علاقے کی تقدیر کے مالک بن جائیں گے۔ وفاقی وزیر کے دورے سے گلگت  بلتستان کے عوام کو بڑی امیدیں وابستہ ہو گئی ہیں۔ اس خطے کی بدقسمتی یہ رہی ہے کہ اس علاقے کا بادشاہ بننے والے تقریباً ہر وزیر نے اپنے گرد خوشامدیوں اور ہاں میں ہاں ملانے والوں کا حصار قائم کر لیا اور اسے آخری دم تک عام لوگوں کے مسائل کا صحیح ادراک نہ ہو سکا۔ نتیجہ یہ نکلتا رہا کہ اس وزیر کو جانے کے بعد پتہ چلتا تھا کہ علاقے کے لوگ اسے گالیاں دے رہے ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ پاکستان کے کسی بھی علاقے سے الیکشن جیتنے والے سیاستدان کو ہرگز یہ معلوم نہیں ہو سکتا کہ اس علاقے کے گائوں اور پہاڑوں پر آباد بستیوں میں رہنے والوں کے شب و روز کیسے گزر رہے ہیں۔ لوگ کیسے دو وقت کی روٹی پوری کر رہے ہیں۔ بیمار کیسے علاج کے بغیر ایڑیاں رگڑ رگڑ کر جان دے رہے ہیں۔ تعلیم کا حصول کس قدر مشکل ہے۔ پڑھے لکھے بے روزگار اپنے دلوں میں کیسے کیسے طوفان چھپائے بیٹھے ہیں۔ مذہبی فسادات کی راہ کیسے ہموار ہو رہی ہے۔ تعصبات کی چنگاری کیسے بھڑک رہی ہے۔ سرکار کو اپنی زمینیں دینے والے معاوضوں کے حصول کے لئے کس عذاب سے گزر رہے ہیں۔ ترقیاتی کاموں کا حال کیا ہے۔ ٹھیکوں کی بندر بانٹ میں قومی خزانے کی کس طرح تباہی ہو رہی ہے۔ غرض اس خطے کی سائنس کو آج تک کوئی وفاقی وزیر نہ سمجھ سکا۔ بیشتر وزراء نے اس علاقے کو صرف سیر سپاٹے کی جگہ سمجھا اور ریسٹ ہائوسز میں سرکاری لوگوں سے میٹنگز کر کے یہ باور کر لیا کہ سب اچھا ہے۔ اس رویے نے حالات کو اس طرح خراب کر دیا ہے کہ اب اسے ٹھیک کرنے کے لئے انگاروں پر چلنا ہو گا۔
جناب قمر زمان کائرہ! آپ کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ ماضی کے کرداروں سے آپ کا کردار مختلف نہ ہوا تو نتیجہ بھی مختلف نہیں ہو گا بلکہ اس بار نقصانات کہیں زیادہ ہونگے۔ پیپلز پارٹی نے ایک نیا جنم لیا ہے۔ وفاقی حکومت آج جس شکل میں ہے ساٹھ سالہ تاریخ میں ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا۔ جن حالات سے گزر کر پیپلز پارٹی یہاں تک پہنچی ہے اس نے اس پارٹی سے لوگوں کی توقعات اور بھی بڑھا دی ہیں۔ آپ کی شخصیت کے جس قدر پہلو اب تک لوگوں کے سامنے آ چکے ہیں وہ اس قدر مثبت ہیں کہ لوگوں کو آپ سے انقلابی اقدامات کی توقع ہے۔ خدارا! اپنے گرد خوشامدیوں کا حصار قائم نہ ہونے دیں۔ پارٹی ورکروں اور عام لوگوں سے رابطے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہونی چاہیے۔ اس مرتبہ لوگوں کو واقعی کچھ ملنا چاہیے۔ روزگار کے مواقع بڑھانا سب سے زیادہ ضروری ہے۔ معاشی و معاشرتی ناانصافیوں کا خاتمہ آپ کی اولین ترجیح ہونی چاہیے اور یقینا ہو گی۔ لوگ اب تک آپ کے متعلق کوئی بدگمانی نہیں رکھتے۔ آپ نے ماضی کی غلطیوں کا ازالہ بھی کرنا ہے اور آگے کا سفر محفوظ، آسان اور خوبصورت بھی بنانا ہے۔ جمہوریت کا جو سورج طلوع ہوا ہے اس کی شفاف کرنیں گلگت  بلتستان پر بھی ضرور پڑنی چاہئیں۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s