نئی وفاقی حکومت سے گلگت بلتستان کے عوام کی توقعات


 

 

گلگت بلتستان کے بیس لاکھ عوام کو ساٹھ سالوں سے جس حالت میں رکھا گیا ہے اس کی وجہ سے یہ بے بس لوگ آنے والی ہر حکومت سے یہ توقع قائم کر لیتے ہیں کہ وہ انہیں محرومیوں کی دلدل سے نکالے گی لیکن ان مظلوموں کی یہ توقع پوری کرنے کی کسی حکومت نے سنجیدہ کوشش نہیں کی۔ 70ء کی دہائی میں پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی چیئرمین اور ملک کی پہلی منتخب عوامی جمہوری حکومت کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو شہید نے پہلی بار گلگت بلتستان کے عوام کی محرومیوں اور ان پر ڈھائے جانے والے مظالم کا احساس کرتے ہوئے اس خطے پر توجہ دی اور ایف سی آر جیسے انسانی حقوق کے منافی قانون کا خاتمہ کیا۔ بھٹو شہید کو زیادہ مہلت نہیں ملی اور وہ یہاں کے عوام کی محرومیوں کے مکمل خاتمے کے مشن کو مکمل نہ کر سکے۔ بھٹو کو اپنا محسن مانتے ہوئے گلگت بلتستان کے عوام نے بدترین حالات میں بھی پیپلز پارٹی کا ساتھ نہیں چھوڑا اور شمالی علاقہ جات کونسل ہو یا قانون ساز کونسل ہمیشہ قابل ذکر تعداد میں پیپلز پارٹی کے ٹکٹ یافتہ امیدواروں کو ایوان میں پہنچایا جو اس بات کا ثبوت ہے کہ لوگوں نے پیپلز پارٹی سے گہری توقعات وابستہ کر رکھی ہیں اور انہیں یقین ہے کہ جب بھی پیپلز پارٹی مرکز میں مضبوط حکومت بنائے گی تو گلگت بلتستان کے عوام کی محرومیوں کا خاتمہ کر دے گی۔ آج پیپلز پارٹی کے امتحان کا دن آ گیا ہے۔ مرکز میں پیپلز پارٹی کی حکومت قائم ہو چکی ہے اور پیپلز پارٹی کے وزیراعظم کو پارلیمانی تاریخ میں پہلی مرتبہ تین چوتھائی اکثریت سے منتخب کیا گیا ہے۔گلگت بلتستان کے آئینی حقوق کے حوالے سے چند باتیں بڑی واضح ہیں لہٰذا ان پر بحث مباحثہ کی یہاں گنجائش نہیں۔ تنازعہ کشمیر کا بنیادی فریق اور حصہ ہونے کے باعث اس علاقے کو پاکستان کا صوبہ یا کسی اور صورت میں مملکت کا حصہ بنانا ممکن نہیں۔ اس حوالے سے تمام مطالبات کم علمی پر مبنی ہیں۔ گلگت بلتستان کی اصل پوزیشن صرف اس بات کی اجازت دیتی ہے کہ اس علاقے کو آزاد کشمیر طرز کا سیٹ اپ دیا جا سکتا ہے لیکن باشعور عوام اس طرز کے سیٹ اپ کے خواہاں نہیں ہیں کیونکہ آزاد کشمیر کی صورتحال سے یہ بات واضح ہے کہ وہاں کے معاملات بھی پاکستان کی سول وفوجی بیوروکریسی کے ہاتھ میں ہیں۔ گلگت بلتستان کے عوام ایک آزاد ا ور خود مختار اسمبلی کے متمنی ہیں اور اپنی آزادانہ حیثیت کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کے فریق کی حیثیت سے یہ وہ واحد صورت ہے جسے خطے کے تمام سنجیدہ اور بااثر حلقوں کی تائید حاصل ہے جبکہ ایک آزاد اسمبلی والی بااختیار حکومت کا قیام پاکستان کے اپنے قومی مفاد میں بھی ہے کیونکہ پہاڑوں سے نیچے اترنے کا ہر راستہ پاکستان کی طرف جاتا ہے۔ پیپلز پارٹی کی حکومت یہ سب کچھ کر سکتی ہے اور اسی لئے بیس لاکھ عوام ان سے توقعات وابستہ کئے ہوئے ہیں۔ عوام یہ بھی چاہتے ہیں کہ انہیں تنازعہ کشمیر میں محض قربانی کا بکرا نہ سمجھا جائے بلکہ ان کی مسلمہ حیثیت کو تسلیم کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر کے ہر معاملے میں پوری طرح شریک کیا جائے۔ پاک بھارت مذاکرات میں کشمیریوں کو نمائندگی دینے کے مرحلے میں گلگت بلتستان کی حقیقی قیادت کو بھی شامل کیا جائے۔ بالخصوص قوم پرست جماعتوں کو اعتماد میں لئے بغیر کوئی فیصلہ یا اقدام درست نہیں ہو گا۔ صدر پرویز مشرف نے اپنے آٹھ سالہ دور اقتدار کے آخری ایام میں ایک سیاسی پیکیج دیکر لوگوں کو بہلانے کی کوشش کی جس کا شدید ردعمل سامنے آیا اور خود صدارتی کیمپ کے حمایتی آج اس پیکیج کی برائی کر رہے ہیں۔ اس پیکیج کے تحت لوگوں کو یہ دھوکہ دیا گیا کہ انہیں بااختیار بنایا جا رہا ہے لیکن اصل صورتحال یہ ہے کہ اختیارات بدستور بیوروکریسی اور پاکستان کی حکومت نے اپنے ہاتھ میں رکھے ہوئے ہیں۔ چیف ایگزیکٹو کی جگہ وفاقی وزیر کو چیئرمین بنا کر تمام اختیارات اسے منتقل کر دیئے گئے ہیں ۔ پیپلز پارٹی سے عوام کو توقع ہے کہ وہ اس دھوکے کا ازالہ کرے گی اور قانون ساز اسمبلی کو واقعی بااختیار بنائے گی۔ چیئرمین جیسے کسی عہدے کی کوئی گنجائش نہیں۔ اختیارات کا اصل منبع اسمبلی ہونی چاہیے جو اس خطے کے اصل چیف ایگزیکٹو کا خود چنائو کرے ، جو تمام انتظامی اور مالیاتی اختیارات استعمال کر سکے گا۔ کوئی فائل بھی اسلام آباد بھیجنے کی ضرورت باقی نہیں رہنی چاہیے۔ چیف سیکرٹری سمیت تمام محکموں کے سربراہان مقامی افراد ہونے چاہئیں۔ اگر دوسرے صوبوں سے افسران کو چیف سیکرٹری یا محکمے کا سربراہ بنا کر یہاں بھیجا جائے تو یہاں کے افسران کو بھی کسی صوبے کا چیف سیکرٹری یا محکمے کا سربراہ بنایا جانا چاہیے۔ پیپلز پارٹی کی حکومت کی ایک ذمہ داری یہ بھی ہے کہ وہ عوامی توقعات کے عین مطابق اس خطے میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا سلسلہ بند کرائے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ سیاسی سیٹ اپ کو مضبوط کئے بغیر ایسا ممکن نہیں۔ عوام کو خدشہ ہے کہ ماضی میں ہر غیر جمہوری اور کھوکھلے سیٹ اپ کا حصہ بننے والوں کو وفاداریاں تبدیل کرنے پر دوبارہ ان پر مسلط نہ کر دیا جائے۔پیپلز پارٹی پر گلگت بلتستان کے عوام کا یہ قرض ہے کہ وہ اپنے شہید چیئرمین کے مشن کو مکمل کرے۔
Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s