فوج اور عوام کو ایک بنانے کی تجویز


 

 

پاک فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے کمان سنبھالتے ہی فوج کا رخ اس کے اصل مشن کی طرف واپس موڑ دیا ہے اور واضح طور پر پیغام دیا ہے کہ فوج سیاست سمیت کسی بھی ایسے معاملے میں ہرگز ملوث نہیں ہو گی جو اس کے قیام کے مقاصد اور مشن سے ہٹ کر ہو۔ اس حوالے سے انہوں نے سب سے پہلے سول اداروں میں تعینات فوجی افسران اور اہلکاروں کو واپس بلانے کا حکم جاری کیاجس کے تحت جون 2008ء تک تمام سول اداروں سے فوجی افسران کی واپسی مکمل ہو جائے گی۔ پاکستان سمیت گلگت بلتستان کے عوام نے اس فیصلے کو بے حد سراہا ہے۔پاکستان کے قیام کے بعد سے یہ بدقسمتی چلی آ رہی ہے کہ فوج کو ہمیشہ سیاست میں گھسیٹا گیا اور بات یہیں تک محدود نہیں رہی بلکہ فوج کو ایک ایسی سرکاری لمیٹڈ کمپنی میں تبدیل کر دیا گیا جو کنسٹرکشن، امپورٹ ایکسپورٹ سمیت متعدد تجارتی کام کر رہی ہے۔ اس حوالے سے ہمیشہ یہ کہا جاتا رہا کہ فوج جتنے امور بھی انجام دے رہی ہے ان سب کا تعلق دفاع وطن سے ہے۔ صورتحال یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ فوج اور عوام دو مختلف طبقات میں تبدیل ہو چکے ہیں اور ہر طبقہ اپنے اپنے مفادات کے حصول میں مصروف ہے۔ فوج کے ذیلی اداروں نے یوریا کھاد بنانے کی فیکٹریاں تک بنا رکھی ہیں اور اس کا جواز یہ پیش کیا جاتا ہے کہ شہداء اور معذور اہلکاروں سمیت سابق فوجیوں کے اہل خانہ کی دیکھ بھال اور فلاح و بہبود کیلئے یہ امور انجام دیئے جا رہے ہیں۔ اس رویے نے فوج اور عوام میں زبردست دوریاں پیدا کر دی ہیں۔ اس کا ایک نقصان تو یہ ہوا کہ ہر طرف فوج کی اجارہ داری دیکھ کر عوام میں بدگمانیوں نے جنم لیا اور دوسری طرف عوام فوج کو اپنے سے الگ محسوس کرتے ہوئے اس کی تمام تر ذمہ داریوں سے الگ ہو گئے۔ نئے آرمی چیف کے حوالے سے معتبر ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ پاک فوج کی اعلیٰ قیادت فوج کو اس کے اصل دائرہ کار میں لانے کے لئے سرے دست عوامی خدمات سر انجام دینے والے دو فوجی اداروں فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن(ایف ڈبلیو او) اور سپیشل کمیونیکیشن آرگنائزیشن(ایس سی او) کو مکمل سول ادارے بنانے کے حوالے سے تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔ ایف ڈبلیو او تو پورے ملک میں بڑے بڑے تعمیراتی کام کرتی ہے اور خاص طور پر سڑکوں، بڑے پلوں اور ڈیم وغیرہ کی تعمیر میں خاصی شہرت رکھتی ہے اور کھربوں روپے کے ٹھیکے اسی ادارے کو دیئے جاتے ہیں۔ ایس سی او کا دائرہ کار آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان تک محدود ہے۔ یہ دونوں علاقے آئینی طور پر پاکستان کا حصہ نہیں ہیں اور متنازعہ خطوں میں شمار ہوتے ہیں۔ گلگت بلتستان تو اپنی پسماندگی اور غربت و بیروزگاری کے حوالے سے دنیا میں سرفہرست ہیں۔ پاک فوج کے دونوں ذیلی اداروں کو سول ادارے بنانے سے اس خطے کے عوام کی محرومی میں بڑی حد تک کمی ہو گی۔ ہزاروں کی تعداد میں مقامی افراد کو مستقل ملازمتیں ملیں گی جس سے گھر گھر خوشحالی آئے گی۔ گلگت بلتستان کے عوام فوج کی اعلیٰ قیادت بالخصوص چیف آف آرمی سٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی کے اس فیصلے کو خراج تحسین پیش کریں گے۔ اس متوقع فیصلے سے فوج اور عوام میں دوریاں ختم ہو جائیں گی اور عوام جو کسی بھی مملکت کی اصل اساس ہوتے ہیں فوج کو اپنا لازمی حصہ سمجھتے ہوئے اس کی تمام تر ذمہ داریاں پوری کرنے میں خوشی محسوس کرینگے۔ پھر واقعی کہا جا سکے گا کہ فوج اور عوام ایک ہیں۔

 

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s