صحافیوں پر تشدد کی تازہ لہر


گلگت بلتستان کا صحافی نہ کبھی ماضی میں محفوظ اور آزاد تھا اور نہ اب اسے کسی قسم کا تحفظ حاصل ہے۔ اس محکوم خطے میں لوگوں کو سانس لینے کی آزادی کے سوا کوئی آزادی حاصل نہیں۔ جس کے پاس ذرا سا بھی اختیار یا طاقت ہے وہ اس کا بے دریغ استعمال کرنا اپنا حق سمجھتا ہے۔ بااختیار لوگوں کا خیال ہے کہ کسی کو ان کے سامنے کھڑا ہونے کی جرات نہیں کرنی چاہیے اور اگر ان لوگوں کو یہ گمان گزرے کہ کوئی ان کی طاقت و اختیار سے مرعوب نہیں ہے تو اس کو نقصان پہنچانے یہاں تک کہ تشدد کا نشانہ بنانے میں بھی ذرا سی ہچکاہٹ محسوس نہیں کی جاتی۔ اخبار نویسوں پر پولیس تشدد کا سلسلہ کئی دہائیوں سے جاری ہے لیکن تشدد کی تازہ لہر نے تو سب کو چونکا دیا ہے۔ چند ہفتے قبل ایک مقامی اخبار کے بیوروچیف پر تھانے کے اندر تشدد کیا گیا جس کے خلاف اٹھنے والی آوازوں پر کسی نے توجہ نہ دی۔ کچھ ہی دنوں بعد ایک اور اخبار نویس پولیس اہلکاروں کی جہالت کا نشانہ بن گیا۔ اس بار بھی سب خاموش رہے۔ اس خاموشی نے پولیس فورس کے غنڈہ ذہنیت رکھنے والے اہلکاروں کو بے لگام کر دیا اور انہوں نے ایک پروگرام کی کوریج کرنے والے دو مقامی سینئر صحافیوں پر کھلے عام ظالمانہ تشدد کیا۔ دونوں صحافی شدید زخمی ہو گئے۔ یہ واردات اس نوعیت کی ہے کہ جیسے ایک مجرم اپنے کسی دشمن کو قتل کرنے کے لئے وار کرتا ہے۔ دونوں صحافیوں کو پتھر سے وار کر کے شدید زخمی کر دیا گیا۔ سینئر صحافی اور معروف گلوکار شراف الدین فریاد کو ہسپتال داخل ہونا پڑا۔پولیس تشدد کے یہ واقعات کیوں رونما ہو رہے ہیں؟ اس کا جواب ہمارے حساب سے نہایت سادہ اور آسان ہے۔ جب کسی محکمے کے افسران صحافیوں سے بدظن ہوں اور ان پر پابندیاں لگاتے ہوں تو پھر چھوٹے اہلکار کو بھلا کس کا ڈر ہو گا۔ افسران کا یہ حال ہے کہ ان کو اپنے ہر فیصلے کی تعریف سننے کی عادت سی پڑ گئی ہے۔ تنقید انہیں برداشت نہیں۔ اس سوچ اور رویے کا تعلق علاقے کی مجموعی صورتحال سے ہے۔ گلگت بلتستان کے لوگوں کو آئینی اور بنیادی انسانی حقوق حاصل نہیں۔ یہاں جبر کا قانون نافذ ہے۔ محرومی کے ساٹھ سالہ دور نے خطے کی آب و ہوا ہی کچھ ایسی کر دی ہے کہ پاکستان کے کسی بھی صوبے سے آنے والا افسر یہاں پہنچتے ہی بدل جاتا ہے۔ صحافیوں پر جسمانی تشدد کے علاوہ ذہنی تشدد کے واقعات بھی اکثر رونما ہوتے رہتے ہیں۔ چوری، ڈکیتی، فراڈ، اغوا اور منشیات سمیت دیگر جرائم سے متعلق اخبارات میں خبروں کی اشاعت اور پولیس کی مسلسل ناکامی پر تنقید کے صحافتی حق کو پولیس حکام تسلیم نہیں کرتے۔ ایسی خبروں کی اشاعت پر متعلقہ رپورٹر کو ڈرایا دھمکایا جاتا ہے۔ صرف پولیس ہی نہیں دیگر محکموں کے افسران کا بھی یہی حال ہے۔ بدقسمتی سے منتخب عوامی نمائندے اس قدر مفاد پرست ہیں کہ وہ معاشرے کے اہم ترین ستون صحافت کا تحفظ اور دفاع کرنے کے بجائے الٹا اس محکمے کے افسران کی غیر قانونی اور غیر اخلاقی حرکات کا دفاع کرتے ہیں۔ پورا معاشرہ ذہنی اور عملی طور پر غلامی کی زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ صحافیوں کو تشدد کا نشانہ بنانے والے دونوں پولیس اہلکار اپنی نوکریوں پر برقرار ہیں اور ان کو پوچھا تک نہیں گیا۔ ملک کے دوسرے کسی حصے میں ایسی سنگین حرکت پر کم از کم متعلقہ اہلکار کو فوری طور پر معطل ضرور کر دیا جاتا ہے اور انکوائری کا حکم بھی دیا جاتا ہے لیکن گلگت بلتستان وہ واحد خطہ ہے جہاں ایسے کسی اقدام کی ضرورت محسوس نہیں کی جاتی۔ ہفت روزہ ”بانگ سحر” پولیس تشدد کی اس تازہ لہر کو آزادی صحافت پر منظم حملہ سمجھتا ہے اور اس قبیح حرکت کے خلاف اعلیٰ حکام اور منتخب سیاسی قیادت سے سنجیدہ نوٹس لینے کا مطالبہ کرتا ہے۔ ”بانگ سحر” اس بات سے پوری طرح آگاہ ہے کہ گلگت بلتستان میں آزادی صحافت کا سورج اس وقت تک طلوع نہیں ہو گا جب تک معاشرے کا مجموعی مزاج تبدیل نہیں ہو گا۔ ہماری بدقسمتی ہے کہ ایسے لوگ بھی بڑی تعداد میں موجود ہیں جو سارا دن سرکاری افسران کے تلوے چاٹتے ہیں اور اپنے ذاتی مفادات کے لئے قومی غیرت کو قربان کر دیتے ہیں۔ ہم یہاں یہ واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ بعض عناصر ”بانگ سحر” کے خلاف کارروائی کے لئے مسلسل سازشوں میں مصروف ہیں اور اخبار میں شائع ہونے والی خبروں کے تراشے لے کر پولیس سمیت خفیہ ایجنسیوں کے دفاتر میں جاتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ اس اخبار کو سچ لکھنے سے روکو ورنہ ہم سب کی کمائیاں بند ہو جائیں گی اور ہمارے عہدے چھن جائیں گے۔ ہم یہ بات ببانگ دہل بتا دینا چاہتے ہیں کہ ”بانگ سحر ”کا کوئی ایسا ذاتی مفاد نہیں جو اس کی کمزوری ہو اور جس کی بنیاد پر ہمیں دبایا جا سکے۔ ہم سچ لکھتے رہیں گے۔ مفاد پرست سن لیں، ان کے لئے موسم خزاں شروع ہونے والا ہے۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s