آزاد کشمیر کی نام نہاد حکومت سے توقع رکھنا فضول ہے؟


 

پاکستان کے زیر کنٹرول آزاد کشمیر حکومت کے قیام سے کشمیریوں کو بڑاحوصلہ ملا تھا اور انہیں یہ امید تھی کہ ریاست جموں و کشمیر کا یہ آزاد ٹکڑا حقیقی معنوں میں آزاد ہو گا اور تحریک آزادی کا بیس کیمپ ثابت ہو گا لیکن اس امید کو وقتاً فوقتاً دھچکے لگتے رہے۔ ریاست جموں و کشمیر کا یہ منقسم ٹکڑا بھی پاکستانی سیاستدانوں کی سیاسی شعبدہ بازی کا نشانہ بنتا رہا۔ تحریک آزادی کا بیس کیمپ بننا تو درکنار اس حصے پر قائم ہونے والی ہر حکومت نے کشمیریوں کی امیدوں پر پانی پھیرا۔ پاکستانی حکومت بھی اس ٹکڑے کو محض اپنی عالمی سیاست کیلئے اوزار کے طور پر استعمال کرتی رہی اور کر رہی ہے۔ آزاد کشمیر حکومت کے قیام سے کشمیریوں کو ایک حوصلہ ملا تھا اور انہیں توقع تھی کہ یہ ٹکڑا ان کی اجتماعی آزادی، معاشی خوشحالی اور عزت و آبرو کا محافظ ثابت ہو گا لیکن 8 اکتوبر کے زلزلے میں اغواء ہونے والی لڑکیوں سے جسم فروشی کا دھندا کروائے جانے کے انکشاف کے بعد کشمیریوں میں نفرت کی شدید لہر پیدا ہوئی ہے۔ اس انتہائی شرمناک واقعے کے بعد نام نہاد ریاستی حکومت اور پاکستانی حکمرانوں کی چشم پوشی نے رہی سہی کسر بھی پوری کر دی۔ ضلع باغ سے تعلق رکھنے والی لڑکی کسی طرح بھاگ کر گھر پہنچ گئی۔ اس مظلوم لڑکی نے انکشاف کیا کہ مزید چار لڑکیاں اس جسم فروشی کے اڈے پر قید ہیں جہاں سے وہ بھاگ کر آئی ہے۔ تمام معلومات ملنے کے باوجود ریاستی حکومت اور حکومت پاکستان نے کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کئے اور تاحال لڑکیاں بازیاب نہیں کرائی جا سکیں۔ اس واقعے کے خلاف آزاد کشمیر سمیت پاکستان کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے کئے گئے۔ عالمی سطح پر بھی اس معاملے کو اٹھایا گیا لیکن لڑکیاں بازیاب نہ ہو سکیں۔ نام نہاد آزاد کشمیر حکومت کے وزیراعظم نے اس واقعے کی پردہ پوشی کیلئے جنیوا میں انسانی حقوق کے حوالے سے کانفرنس میں اپنے بیٹے کو چند خواتین کے ہمراہ انسانی حقوق تنظیم کا نمائندہ وفد بنا کر بھیج دیا لیکن عالمی برادری کی آنکھوں میں دھول نہ جھونکی جا سکی۔ جعلی وفد کو کانفرنس میں شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا اور حکومت پاکستان کی سخت بدنامی ہوئی۔ اس نامعقول دورے پر اٹھارہ لاکھ روپے کا کثیر سرمایہ خرچ ہوا۔ کتنے دکھ کی بات ہے کہ زلزلے جیسے ہولناک موقع پر بھی لڑکیوں کے اغواء کی وارداتیں ہوتی رہیں۔ لوگ اپنی لاتعداد لاپتہ بچیوں کے بارے میں یہ گمان رکھتے ہیں کہ وہ ملبے تلے دب کر شہید ہو گئی ہیں اور نعشیں نکالنا ممکن نہیں لیکن اب ہر لاپتہ بچی کے والدین پر قیامت گزر رہی ہے کہ خدانخواستہ ان کی بیٹی بھی پاکستان میں جسم فروشی کے کسی اڈے کی زینت نہ بن گئی ہو۔ دوسری جانب ریاست جموں و کشمیر کے ہر فرد کو یہ پیغام مل گیا ہے کہ آزاد کشمیر میں بھی ان کی عزت و آبرو اتنی ہی غیر محفوظ ہے جتنی ریاست کے دیگر حصوں میں غیر محفوظ ہے۔ کشمیریوں کو یہ بھی معلوم ہو گیا ہے کہ اپنے تئیں کشمیریوں کی وکالت کرنے کا دعویدار پاکستان حکومتی اور عوامی سطح پر کشمیریوں سے کوئی لگائو نہیں رکھتا۔ انہیں کشمیریوں کے حقوق، آزادی اور عزت و آبرو کے تحفظ سے کوئی دلچسپی نہیں۔ سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ آزاد کشمیر کی نام نہاد حکومت نہ صرف کشمیریوں کا تحفظ کرنے میں ناکام ہے بلکہ ہر خرابی پر اس کی پردہ پوشی کرنے کا جرم بھی کرتی ہے۔ایسی حکومت سے کوئی توقع رکھنا فضول ہے۔
Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s