نئی وفاقی حکومت سے گلگت بلتستان کے عوام کی توقعات

 

 

گلگت بلتستان کے بیس لاکھ عوام کو ساٹھ سالوں سے جس حالت میں رکھا گیا ہے اس کی وجہ سے یہ بے بس لوگ آنے والی ہر حکومت سے یہ توقع قائم کر لیتے ہیں کہ وہ انہیں محرومیوں کی دلدل سے نکالے گی لیکن ان مظلوموں کی یہ توقع پوری کرنے کی کسی حکومت نے سنجیدہ کوشش نہیں کی۔ 70ء کی دہائی میں پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی چیئرمین اور ملک کی پہلی منتخب عوامی جمہوری حکومت کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو شہید نے پہلی بار گلگت بلتستان کے عوام کی محرومیوں اور ان پر ڈھائے جانے والے مظالم کا احساس کرتے ہوئے اس خطے پر توجہ دی اور ایف سی آر جیسے انسانی حقوق کے منافی قانون کا خاتمہ کیا۔ بھٹو شہید کو زیادہ مہلت نہیں ملی اور وہ یہاں کے عوام کی محرومیوں کے مکمل خاتمے کے مشن کو مکمل نہ کر سکے۔ بھٹو کو اپنا محسن مانتے ہوئے گلگت بلتستان کے عوام نے بدترین حالات میں بھی پیپلز پارٹی کا ساتھ نہیں چھوڑا اور شمالی علاقہ جات کونسل ہو یا قانون ساز کونسل ہمیشہ قابل ذکر تعداد میں پیپلز پارٹی کے ٹکٹ یافتہ امیدواروں کو ایوان میں پہنچایا جو اس بات کا ثبوت ہے کہ لوگوں نے پیپلز پارٹی سے گہری توقعات وابستہ کر رکھی ہیں اور انہیں یقین ہے کہ جب بھی پیپلز پارٹی مرکز میں مضبوط حکومت بنائے گی تو گلگت بلتستان کے عوام کی محرومیوں کا خاتمہ کر دے گی۔ آج پیپلز پارٹی کے امتحان کا دن آ گیا ہے۔ مرکز میں پیپلز پارٹی کی حکومت قائم ہو چکی ہے اور پیپلز پارٹی کے وزیراعظم کو پارلیمانی تاریخ میں پہلی مرتبہ تین چوتھائی اکثریت سے منتخب کیا گیا ہے۔گلگت بلتستان کے آئینی حقوق کے حوالے سے چند باتیں بڑی واضح ہیں لہٰذا ان پر بحث مباحثہ کی یہاں گنجائش نہیں۔ تنازعہ کشمیر کا بنیادی فریق اور حصہ ہونے کے باعث اس علاقے کو پاکستان کا صوبہ یا کسی اور صورت میں مملکت کا حصہ بنانا ممکن نہیں۔ اس حوالے سے تمام مطالبات کم علمی پر مبنی ہیں۔ گلگت بلتستان کی اصل پوزیشن صرف اس بات کی اجازت دیتی ہے کہ اس علاقے کو آزاد کشمیر طرز کا سیٹ اپ دیا جا سکتا ہے لیکن باشعور عوام اس طرز کے سیٹ اپ کے خواہاں نہیں ہیں کیونکہ آزاد کشمیر کی صورتحال سے یہ بات واضح ہے کہ وہاں کے معاملات بھی پاکستان کی سول وفوجی بیوروکریسی کے ہاتھ میں ہیں۔ گلگت بلتستان کے عوام ایک آزاد ا ور خود مختار اسمبلی کے متمنی ہیں اور اپنی آزادانہ حیثیت کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کے فریق کی حیثیت سے یہ وہ واحد صورت ہے جسے خطے کے تمام سنجیدہ اور بااثر حلقوں کی تائید حاصل ہے جبکہ ایک آزاد اسمبلی والی بااختیار حکومت کا قیام پاکستان کے اپنے قومی مفاد میں بھی ہے کیونکہ پہاڑوں سے نیچے اترنے کا ہر راستہ پاکستان کی طرف جاتا ہے۔ پیپلز پارٹی کی حکومت یہ سب کچھ کر سکتی ہے اور اسی لئے بیس لاکھ عوام ان سے توقعات وابستہ کئے ہوئے ہیں۔ عوام یہ بھی چاہتے ہیں کہ انہیں تنازعہ کشمیر میں محض قربانی کا بکرا نہ سمجھا جائے بلکہ ان کی مسلمہ حیثیت کو تسلیم کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر کے ہر معاملے میں پوری طرح شریک کیا جائے۔ پاک بھارت مذاکرات میں کشمیریوں کو نمائندگی دینے کے مرحلے میں گلگت بلتستان کی حقیقی قیادت کو بھی شامل کیا جائے۔ بالخصوص قوم پرست جماعتوں کو اعتماد میں لئے بغیر کوئی فیصلہ یا اقدام درست نہیں ہو گا۔ صدر پرویز مشرف نے اپنے آٹھ سالہ دور اقتدار کے آخری ایام میں ایک سیاسی پیکیج دیکر لوگوں کو بہلانے کی کوشش کی جس کا شدید ردعمل سامنے آیا اور خود صدارتی کیمپ کے حمایتی آج اس پیکیج کی برائی کر رہے ہیں۔ اس پیکیج کے تحت لوگوں کو یہ دھوکہ دیا گیا کہ انہیں بااختیار بنایا جا رہا ہے لیکن اصل صورتحال یہ ہے کہ اختیارات بدستور بیوروکریسی اور پاکستان کی حکومت نے اپنے ہاتھ میں رکھے ہوئے ہیں۔ چیف ایگزیکٹو کی جگہ وفاقی وزیر کو چیئرمین بنا کر تمام اختیارات اسے منتقل کر دیئے گئے ہیں ۔ پیپلز پارٹی سے عوام کو توقع ہے کہ وہ اس دھوکے کا ازالہ کرے گی اور قانون ساز اسمبلی کو واقعی بااختیار بنائے گی۔ چیئرمین جیسے کسی عہدے کی کوئی گنجائش نہیں۔ اختیارات کا اصل منبع اسمبلی ہونی چاہیے جو اس خطے کے اصل چیف ایگزیکٹو کا خود چنائو کرے ، جو تمام انتظامی اور مالیاتی اختیارات استعمال کر سکے گا۔ کوئی فائل بھی اسلام آباد بھیجنے کی ضرورت باقی نہیں رہنی چاہیے۔ چیف سیکرٹری سمیت تمام محکموں کے سربراہان مقامی افراد ہونے چاہئیں۔ اگر دوسرے صوبوں سے افسران کو چیف سیکرٹری یا محکمے کا سربراہ بنا کر یہاں بھیجا جائے تو یہاں کے افسران کو بھی کسی صوبے کا چیف سیکرٹری یا محکمے کا سربراہ بنایا جانا چاہیے۔ پیپلز پارٹی کی حکومت کی ایک ذمہ داری یہ بھی ہے کہ وہ عوامی توقعات کے عین مطابق اس خطے میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا سلسلہ بند کرائے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ سیاسی سیٹ اپ کو مضبوط کئے بغیر ایسا ممکن نہیں۔ عوام کو خدشہ ہے کہ ماضی میں ہر غیر جمہوری اور کھوکھلے سیٹ اپ کا حصہ بننے والوں کو وفاداریاں تبدیل کرنے پر دوبارہ ان پر مسلط نہ کر دیا جائے۔پیپلز پارٹی پر گلگت بلتستان کے عوام کا یہ قرض ہے کہ وہ اپنے شہید چیئرمین کے مشن کو مکمل کرے۔

آزاد کشمیر کی نام نہاد حکومت سے توقع رکھنا فضول ہے؟

 

پاکستان کے زیر کنٹرول آزاد کشمیر حکومت کے قیام سے کشمیریوں کو بڑاحوصلہ ملا تھا اور انہیں یہ امید تھی کہ ریاست جموں و کشمیر کا یہ آزاد ٹکڑا حقیقی معنوں میں آزاد ہو گا اور تحریک آزادی کا بیس کیمپ ثابت ہو گا لیکن اس امید کو وقتاً فوقتاً دھچکے لگتے رہے۔ ریاست جموں و کشمیر کا یہ منقسم ٹکڑا بھی پاکستانی سیاستدانوں کی سیاسی شعبدہ بازی کا نشانہ بنتا رہا۔ تحریک آزادی کا بیس کیمپ بننا تو درکنار اس حصے پر قائم ہونے والی ہر حکومت نے کشمیریوں کی امیدوں پر پانی پھیرا۔ پاکستانی حکومت بھی اس ٹکڑے کو محض اپنی عالمی سیاست کیلئے اوزار کے طور پر استعمال کرتی رہی اور کر رہی ہے۔ آزاد کشمیر حکومت کے قیام سے کشمیریوں کو ایک حوصلہ ملا تھا اور انہیں توقع تھی کہ یہ ٹکڑا ان کی اجتماعی آزادی، معاشی خوشحالی اور عزت و آبرو کا محافظ ثابت ہو گا لیکن 8 اکتوبر کے زلزلے میں اغواء ہونے والی لڑکیوں سے جسم فروشی کا دھندا کروائے جانے کے انکشاف کے بعد کشمیریوں میں نفرت کی شدید لہر پیدا ہوئی ہے۔ اس انتہائی شرمناک واقعے کے بعد نام نہاد ریاستی حکومت اور پاکستانی حکمرانوں کی چشم پوشی نے رہی سہی کسر بھی پوری کر دی۔ ضلع باغ سے تعلق رکھنے والی لڑکی کسی طرح بھاگ کر گھر پہنچ گئی۔ اس مظلوم لڑکی نے انکشاف کیا کہ مزید چار لڑکیاں اس جسم فروشی کے اڈے پر قید ہیں جہاں سے وہ بھاگ کر آئی ہے۔ تمام معلومات ملنے کے باوجود ریاستی حکومت اور حکومت پاکستان نے کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کئے اور تاحال لڑکیاں بازیاب نہیں کرائی جا سکیں۔ اس واقعے کے خلاف آزاد کشمیر سمیت پاکستان کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے کئے گئے۔ عالمی سطح پر بھی اس معاملے کو اٹھایا گیا لیکن لڑکیاں بازیاب نہ ہو سکیں۔ نام نہاد آزاد کشمیر حکومت کے وزیراعظم نے اس واقعے کی پردہ پوشی کیلئے جنیوا میں انسانی حقوق کے حوالے سے کانفرنس میں اپنے بیٹے کو چند خواتین کے ہمراہ انسانی حقوق تنظیم کا نمائندہ وفد بنا کر بھیج دیا لیکن عالمی برادری کی آنکھوں میں دھول نہ جھونکی جا سکی۔ جعلی وفد کو کانفرنس میں شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا اور حکومت پاکستان کی سخت بدنامی ہوئی۔ اس نامعقول دورے پر اٹھارہ لاکھ روپے کا کثیر سرمایہ خرچ ہوا۔ کتنے دکھ کی بات ہے کہ زلزلے جیسے ہولناک موقع پر بھی لڑکیوں کے اغواء کی وارداتیں ہوتی رہیں۔ لوگ اپنی لاتعداد لاپتہ بچیوں کے بارے میں یہ گمان رکھتے ہیں کہ وہ ملبے تلے دب کر شہید ہو گئی ہیں اور نعشیں نکالنا ممکن نہیں لیکن اب ہر لاپتہ بچی کے والدین پر قیامت گزر رہی ہے کہ خدانخواستہ ان کی بیٹی بھی پاکستان میں جسم فروشی کے کسی اڈے کی زینت نہ بن گئی ہو۔ دوسری جانب ریاست جموں و کشمیر کے ہر فرد کو یہ پیغام مل گیا ہے کہ آزاد کشمیر میں بھی ان کی عزت و آبرو اتنی ہی غیر محفوظ ہے جتنی ریاست کے دیگر حصوں میں غیر محفوظ ہے۔ کشمیریوں کو یہ بھی معلوم ہو گیا ہے کہ اپنے تئیں کشمیریوں کی وکالت کرنے کا دعویدار پاکستان حکومتی اور عوامی سطح پر کشمیریوں سے کوئی لگائو نہیں رکھتا۔ انہیں کشمیریوں کے حقوق، آزادی اور عزت و آبرو کے تحفظ سے کوئی دلچسپی نہیں۔ سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ آزاد کشمیر کی نام نہاد حکومت نہ صرف کشمیریوں کا تحفظ کرنے میں ناکام ہے بلکہ ہر خرابی پر اس کی پردہ پوشی کرنے کا جرم بھی کرتی ہے۔ایسی حکومت سے کوئی توقع رکھنا فضول ہے۔

صحافیوں پر تشدد کی تازہ لہر

گلگت بلتستان کا صحافی نہ کبھی ماضی میں محفوظ اور آزاد تھا اور نہ اب اسے کسی قسم کا تحفظ حاصل ہے۔ اس محکوم خطے میں لوگوں کو سانس لینے کی آزادی کے سوا کوئی آزادی حاصل نہیں۔ جس کے پاس ذرا سا بھی اختیار یا طاقت ہے وہ اس کا بے دریغ استعمال کرنا اپنا حق سمجھتا ہے۔ بااختیار لوگوں کا خیال ہے کہ کسی کو ان کے سامنے کھڑا ہونے کی جرات نہیں کرنی چاہیے اور اگر ان لوگوں کو یہ گمان گزرے کہ کوئی ان کی طاقت و اختیار سے مرعوب نہیں ہے تو اس کو نقصان پہنچانے یہاں تک کہ تشدد کا نشانہ بنانے میں بھی ذرا سی ہچکاہٹ محسوس نہیں کی جاتی۔ اخبار نویسوں پر پولیس تشدد کا سلسلہ کئی دہائیوں سے جاری ہے لیکن تشدد کی تازہ لہر نے تو سب کو چونکا دیا ہے۔ چند ہفتے قبل ایک مقامی اخبار کے بیوروچیف پر تھانے کے اندر تشدد کیا گیا جس کے خلاف اٹھنے والی آوازوں پر کسی نے توجہ نہ دی۔ کچھ ہی دنوں بعد ایک اور اخبار نویس پولیس اہلکاروں کی جہالت کا نشانہ بن گیا۔ اس بار بھی سب خاموش رہے۔ اس خاموشی نے پولیس فورس کے غنڈہ ذہنیت رکھنے والے اہلکاروں کو بے لگام کر دیا اور انہوں نے ایک پروگرام کی کوریج کرنے والے دو مقامی سینئر صحافیوں پر کھلے عام ظالمانہ تشدد کیا۔ دونوں صحافی شدید زخمی ہو گئے۔ یہ واردات اس نوعیت کی ہے کہ جیسے ایک مجرم اپنے کسی دشمن کو قتل کرنے کے لئے وار کرتا ہے۔ دونوں صحافیوں کو پتھر سے وار کر کے شدید زخمی کر دیا گیا۔ سینئر صحافی اور معروف گلوکار شراف الدین فریاد کو ہسپتال داخل ہونا پڑا۔پولیس تشدد کے یہ واقعات کیوں رونما ہو رہے ہیں؟ اس کا جواب ہمارے حساب سے نہایت سادہ اور آسان ہے۔ جب کسی محکمے کے افسران صحافیوں سے بدظن ہوں اور ان پر پابندیاں لگاتے ہوں تو پھر چھوٹے اہلکار کو بھلا کس کا ڈر ہو گا۔ افسران کا یہ حال ہے کہ ان کو اپنے ہر فیصلے کی تعریف سننے کی عادت سی پڑ گئی ہے۔ تنقید انہیں برداشت نہیں۔ اس سوچ اور رویے کا تعلق علاقے کی مجموعی صورتحال سے ہے۔ گلگت بلتستان کے لوگوں کو آئینی اور بنیادی انسانی حقوق حاصل نہیں۔ یہاں جبر کا قانون نافذ ہے۔ محرومی کے ساٹھ سالہ دور نے خطے کی آب و ہوا ہی کچھ ایسی کر دی ہے کہ پاکستان کے کسی بھی صوبے سے آنے والا افسر یہاں پہنچتے ہی بدل جاتا ہے۔ صحافیوں پر جسمانی تشدد کے علاوہ ذہنی تشدد کے واقعات بھی اکثر رونما ہوتے رہتے ہیں۔ چوری، ڈکیتی، فراڈ، اغوا اور منشیات سمیت دیگر جرائم سے متعلق اخبارات میں خبروں کی اشاعت اور پولیس کی مسلسل ناکامی پر تنقید کے صحافتی حق کو پولیس حکام تسلیم نہیں کرتے۔ ایسی خبروں کی اشاعت پر متعلقہ رپورٹر کو ڈرایا دھمکایا جاتا ہے۔ صرف پولیس ہی نہیں دیگر محکموں کے افسران کا بھی یہی حال ہے۔ بدقسمتی سے منتخب عوامی نمائندے اس قدر مفاد پرست ہیں کہ وہ معاشرے کے اہم ترین ستون صحافت کا تحفظ اور دفاع کرنے کے بجائے الٹا اس محکمے کے افسران کی غیر قانونی اور غیر اخلاقی حرکات کا دفاع کرتے ہیں۔ پورا معاشرہ ذہنی اور عملی طور پر غلامی کی زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ صحافیوں کو تشدد کا نشانہ بنانے والے دونوں پولیس اہلکار اپنی نوکریوں پر برقرار ہیں اور ان کو پوچھا تک نہیں گیا۔ ملک کے دوسرے کسی حصے میں ایسی سنگین حرکت پر کم از کم متعلقہ اہلکار کو فوری طور پر معطل ضرور کر دیا جاتا ہے اور انکوائری کا حکم بھی دیا جاتا ہے لیکن گلگت بلتستان وہ واحد خطہ ہے جہاں ایسے کسی اقدام کی ضرورت محسوس نہیں کی جاتی۔ ہفت روزہ ”بانگ سحر” پولیس تشدد کی اس تازہ لہر کو آزادی صحافت پر منظم حملہ سمجھتا ہے اور اس قبیح حرکت کے خلاف اعلیٰ حکام اور منتخب سیاسی قیادت سے سنجیدہ نوٹس لینے کا مطالبہ کرتا ہے۔ ”بانگ سحر” اس بات سے پوری طرح آگاہ ہے کہ گلگت بلتستان میں آزادی صحافت کا سورج اس وقت تک طلوع نہیں ہو گا جب تک معاشرے کا مجموعی مزاج تبدیل نہیں ہو گا۔ ہماری بدقسمتی ہے کہ ایسے لوگ بھی بڑی تعداد میں موجود ہیں جو سارا دن سرکاری افسران کے تلوے چاٹتے ہیں اور اپنے ذاتی مفادات کے لئے قومی غیرت کو قربان کر دیتے ہیں۔ ہم یہاں یہ واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ بعض عناصر ”بانگ سحر” کے خلاف کارروائی کے لئے مسلسل سازشوں میں مصروف ہیں اور اخبار میں شائع ہونے والی خبروں کے تراشے لے کر پولیس سمیت خفیہ ایجنسیوں کے دفاتر میں جاتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ اس اخبار کو سچ لکھنے سے روکو ورنہ ہم سب کی کمائیاں بند ہو جائیں گی اور ہمارے عہدے چھن جائیں گے۔ ہم یہ بات ببانگ دہل بتا دینا چاہتے ہیں کہ ”بانگ سحر ”کا کوئی ایسا ذاتی مفاد نہیں جو اس کی کمزوری ہو اور جس کی بنیاد پر ہمیں دبایا جا سکے۔ ہم سچ لکھتے رہیں گے۔ مفاد پرست سن لیں، ان کے لئے موسم خزاں شروع ہونے والا ہے۔

فوج اور عوام کو ایک بنانے کی تجویز

 

 

پاک فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے کمان سنبھالتے ہی فوج کا رخ اس کے اصل مشن کی طرف واپس موڑ دیا ہے اور واضح طور پر پیغام دیا ہے کہ فوج سیاست سمیت کسی بھی ایسے معاملے میں ہرگز ملوث نہیں ہو گی جو اس کے قیام کے مقاصد اور مشن سے ہٹ کر ہو۔ اس حوالے سے انہوں نے سب سے پہلے سول اداروں میں تعینات فوجی افسران اور اہلکاروں کو واپس بلانے کا حکم جاری کیاجس کے تحت جون 2008ء تک تمام سول اداروں سے فوجی افسران کی واپسی مکمل ہو جائے گی۔ پاکستان سمیت گلگت بلتستان کے عوام نے اس فیصلے کو بے حد سراہا ہے۔پاکستان کے قیام کے بعد سے یہ بدقسمتی چلی آ رہی ہے کہ فوج کو ہمیشہ سیاست میں گھسیٹا گیا اور بات یہیں تک محدود نہیں رہی بلکہ فوج کو ایک ایسی سرکاری لمیٹڈ کمپنی میں تبدیل کر دیا گیا جو کنسٹرکشن، امپورٹ ایکسپورٹ سمیت متعدد تجارتی کام کر رہی ہے۔ اس حوالے سے ہمیشہ یہ کہا جاتا رہا کہ فوج جتنے امور بھی انجام دے رہی ہے ان سب کا تعلق دفاع وطن سے ہے۔ صورتحال یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ فوج اور عوام دو مختلف طبقات میں تبدیل ہو چکے ہیں اور ہر طبقہ اپنے اپنے مفادات کے حصول میں مصروف ہے۔ فوج کے ذیلی اداروں نے یوریا کھاد بنانے کی فیکٹریاں تک بنا رکھی ہیں اور اس کا جواز یہ پیش کیا جاتا ہے کہ شہداء اور معذور اہلکاروں سمیت سابق فوجیوں کے اہل خانہ کی دیکھ بھال اور فلاح و بہبود کیلئے یہ امور انجام دیئے جا رہے ہیں۔ اس رویے نے فوج اور عوام میں زبردست دوریاں پیدا کر دی ہیں۔ اس کا ایک نقصان تو یہ ہوا کہ ہر طرف فوج کی اجارہ داری دیکھ کر عوام میں بدگمانیوں نے جنم لیا اور دوسری طرف عوام فوج کو اپنے سے الگ محسوس کرتے ہوئے اس کی تمام تر ذمہ داریوں سے الگ ہو گئے۔ نئے آرمی چیف کے حوالے سے معتبر ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ پاک فوج کی اعلیٰ قیادت فوج کو اس کے اصل دائرہ کار میں لانے کے لئے سرے دست عوامی خدمات سر انجام دینے والے دو فوجی اداروں فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن(ایف ڈبلیو او) اور سپیشل کمیونیکیشن آرگنائزیشن(ایس سی او) کو مکمل سول ادارے بنانے کے حوالے سے تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔ ایف ڈبلیو او تو پورے ملک میں بڑے بڑے تعمیراتی کام کرتی ہے اور خاص طور پر سڑکوں، بڑے پلوں اور ڈیم وغیرہ کی تعمیر میں خاصی شہرت رکھتی ہے اور کھربوں روپے کے ٹھیکے اسی ادارے کو دیئے جاتے ہیں۔ ایس سی او کا دائرہ کار آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان تک محدود ہے۔ یہ دونوں علاقے آئینی طور پر پاکستان کا حصہ نہیں ہیں اور متنازعہ خطوں میں شمار ہوتے ہیں۔ گلگت بلتستان تو اپنی پسماندگی اور غربت و بیروزگاری کے حوالے سے دنیا میں سرفہرست ہیں۔ پاک فوج کے دونوں ذیلی اداروں کو سول ادارے بنانے سے اس خطے کے عوام کی محرومی میں بڑی حد تک کمی ہو گی۔ ہزاروں کی تعداد میں مقامی افراد کو مستقل ملازمتیں ملیں گی جس سے گھر گھر خوشحالی آئے گی۔ گلگت بلتستان کے عوام فوج کی اعلیٰ قیادت بالخصوص چیف آف آرمی سٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی کے اس فیصلے کو خراج تحسین پیش کریں گے۔ اس متوقع فیصلے سے فوج اور عوام میں دوریاں ختم ہو جائیں گی اور عوام جو کسی بھی مملکت کی اصل اساس ہوتے ہیں فوج کو اپنا لازمی حصہ سمجھتے ہوئے اس کی تمام تر ذمہ داریاں پوری کرنے میں خوشی محسوس کرینگے۔ پھر واقعی کہا جا سکے گا کہ فوج اور عوام ایک ہیں۔

 

Air war college team briefed on N.As

Weekly Bang-e-sahar Saturday,April 5-11,2008

By Our Reporter
ISLAMABAD: A 38-member delegation of Air War College Islamabad was briefed about the history and present political setup and administrative affairs of the Northern Areas. The delegation led by Air Commodore, in charge faculty, Aga Zahir Ahmed, was accorded warm welcome be Northern Areas Chief Secretary Qamar Zaman Chaudhry at his office here. The members of the delegation included from Turkey, China, Jordan, Iran, Malaysia, Indonesia, Nigeria and UAE. The chief secretary and home secretary Sardar Mohammad Abbas Khan gave a detailed briefing about economy, minerals, communication, tourism, law and order, historical background, culture, administrative setup and other matters of the region. Secretary Finance Syed Mutahir Shah shed light on financial setup of the region as well as fast-paced development. The members of delegation raised various questions which were answered by the chief secretary. The briefing was attended by all administrative secretaries of the region.

Radio airs Khowar programme

Weekly Bang-e-sahar Saturday,April 5-11,2008

By Our Correspondent
GILGIT: Pakistan Broadcasting Corporation has for the first time launched Khawar language programme from Radio Pakistan Gilgit. The twenty-minute Khawar transmission will start at 5:10pm and continue up to 5:30pm. Khawar, which is the main language of Chitral, is also spoken in the Ghizer district of Northern Areas. After Urdu, Shina, Wakhi and Burushashki, Khawar is the fifth language broadcast from Radio Pakistan Gilgit. Adviser on education Noorul Ain and member Northern Areas Legislative Assembly Ali Murad Khan have expressed their gratitude over the launching of Khawar transmission from Gilgit. They said the transmission would be a milestone in the development and protection of Khawar language. They thanked the high officials of the ministry of information and director general PBC Javed Akhtar for initiating the Khawar language programme.

Civilian postsArmy officers’ further stay not acceptable

Weekly Bang-e-sahar Saturday,April 5-11,2008

ISLAMABAD: The Pakistan People’s Party (PPP) Northern Areas has strongly criticized unnecessary delay in withdrawal of military officers posted in civilian organizations in the region despite clear-cut announcements made by Prime Minister Yousaf Raza Gillani and Chief of Army Staff Gen Ashfaq Pervez Kayani in this regard. In their separate statements here, PPP Northern Areas President Syed Jafar Shah Advocate and member Legislative Assembly Mohammad Ali Akhtar warned that a protest movement would be launched if the directives of the prime minister and the COAS were not implemented in letter and spirit in Gilgit-Baltistan. After the February 18 general elections, powers have been transferred to the new PPP-led government. The PPP leadership has taken wise decision and ordered immediate withdrawal of military officers from all civilian organizations and the directive is being implemented in all parts of the country. But strangely some elements having their own vested interests are out to sabotage the government’s decision and are trying to stop or delay the return of military officers posted in civilian organizations in Gilgit-Baltistsn. This has created suspicions among the people who have been expecting that the new government would take stringent measures to empower the local people to run their day-to-day affairs. On the day of the prime minister’s policy statement and the public declaration that recall orders had been issued, the media also reported the appointment of yet another serving army officer as secretary works in Northern Areas. The incumbent secretary works just retired from the army. The retiring officer, however, has not only been given extension till August 14, but another serving army officer has been nominated in advance to replace him on his retirement. The reported appointment of the serving military officer to a civilian job on the heels of declaration of the government policy dampens the enthusiasm generated by the announcement. It also places an unnecessary question mark over whether recall orders had indeed been issued. The PPP leader regretted that not only army officers had been heading some key civilian organizations but upon their retirement they were being replaced by other military officials. This practice is continuing in the area even after restoration of full democracy in the country and against the directives of the political and military leadership. Besides creating public alienation and anger, the move will continue to badly affect local civilian officers’ future, as their promotions have been blocked for the last many years due to induction of army officers, they pointed out. They said extension in retired officers’ tenure was also unconstitutional and the new government should take notice of it in the interests of the local population. The PPP leaders demanded that the government should order immediate withdrawal of the army officers posted in key civilian posts in Gilgit-Baltistan so that local civil officers could be posted in their places. Meanwhile, members of the Northern Areas Legislative Assembly Hafiz Hafeezur Rehman of the Pakistan Muslim League-Nawaz (PML-N) criticized the recent appointment of an armyman in the Northern Areas and described it a conspiracy to sabotage the revolutionary step of the new government. He also opined that such appointments would further create a sense of deprivation among the people of Gilgit-Baltistan, who had been deprived of their right and promotions in the government departments for the past many years. He regretted that on the very day of the prime minister’s policy statement that orders had been issued to recall army officers, there were reports about the appointment of yet another serving army officer as secretary works in Gilgit-Baltistan. The incumbent secretary works just retired from the army but was, however, not only given extension till August 14 but another serving army officer was nominated in advance to replace him. The appointment of a serving military officer to a civil job on the heels of declarations of policy and intent dampens the enthusiasm generated by the announcement.

New govt a ray of hope for N.As people

Weekly Bang-e-sahar Saturday,April 5-11,2008

ISLAMABAD: The restoration of democracy and formation of a new government in Pakistan has given a new hope to the people of Northern Areas who have been seeking an end to the long ambiguity over their constitutional status, access to basic rights and creation of a peaceful atmosphere free from sectarian violence. PML-N Northern Areas chapter president Hafizur Rahman pointed out that both the PPP and the PML-N had given a commitment in the Charter of Democracy to give the people of N.As a system in accordance with their aspirations, and remove the sense of deprivation among them by including them in the decision-making process. He said President Musharraf made tall claims about bringing positive changes in the Northern Areas but did nothing for removing the sense of deprivation in the region. He said the constitutional status of Northern Areas had been left in a limbo and the fundamental rights of the people were denied. He said it was essential that the people of Northern Areas be given a greater say in determining their destiny and carrying out their day to day affairs. He called for greater efforts to end sectarian friction and to alleviate the socio-economic miseries of the people. He said though commitments had been made for gradual devolution of powers to the Northern Areas, but bureaucracy was further strengthened. He said soon after coming to power President Musharraf levied sales tax and income tax on imports through the Northern Areas, which led to decrease in the volume of trade. He said Musharraf also polluted the political environment by laying the foundation of PML-Q in Northern Areas in 2004 through a massive horse-trading by persuading seven members of the PML-N to switch loyalties. He said the rules of business framed by the government say that 50 per cent of secretaries would be appointed by promotion and 50 per cent by transfer, but only one of the ten secretaries was appointed by promotion. Likewise, he added, 25 per cent of the grade 18 officers were to be appointed by transfer and 75 per cent through promotion, but it was again the other way round. He said there was no system of check and balance against misuse of authority by government functionaries in the Northern Areas. Giving an example, he said an amount of Rs7 million was allocated merely for the renovation of the house of inspector-general of police. He said the Assembly rejected the budget by a majority of 25-4, but still it was implemented. He was of the view that if the hydro-electricity potential of Northern Areas was fully exploited, the country’s all energy needs could be met. He said according to a survey by Wapda, there was a potential of generating 80,000 mega watts of electricity from the Indus river alone.—Courtesy Dawn

Reconstruction funds misused’

Weekly Bang-e-sahar Saturday,April 5-11,2008

MUZAFFARABAD: Member Azad Kashmir Legislative Assembly Mohammad Hanif Awan has alleged that Rs20 million received from donor agencies for the construction of the capital city were misused by the authorities concerned. Talking to Bang-e-Sahar, he power should be transferred to the true representatives of the state so that those involved in corruption could be brought to justice and the public money recovered fro judicious utilization in the interest of the masses. He said money received from the World Bank for reconstruction and rehabilitation of the earthquake affected people were distributed among CBOs through political connections. He said the issue was brought under the notice of the prime minister and members of his cabinet but no steps were taken against the responsible. He said the government had also failed to reconstruct destroyed schools and students were compelled to sit under the open sky in the cold

Call to ensure basic rights

Bang-e-sahar Saturday,April 5-11,2008

By Shezad Hussain GILGIT: The region of Gilgit-Balitistan has been denied its basic constitutional and human rights for the last over six decades. Ironically, no government ever tried to ascertain the ground realities and issues of public concerns and except deprivation, unemployment and poverty gave nothing to the over 20 million people of the region. These views were expressed by Sher Zaman, former president of the Karakoram National Movement Gilgit chapter, while talking to Bang-e-Sahar. He said after formation of the PPP-led government, people of the region were looking towards Islamabad as a last ray of hope for resolution of their long-standing issues. He said since independence the successive governments tried to downplay the identity and strategic importance of the region by sometimes trying to declare the area as part of Kashmir

« Older entries